اڈپی 25/اگست (ایس او نیوز) سوشیل میڈیا اور کچھ الیکٹرانک میڈیا پر آج یہ خبر وائرل ہوئی ہے کہ بندرگاہی شہر ملپے میں ایک پاکستانی دہشت گرد موجود ہے جو تملناڈو سے فرار ہوکر یہاں کسی مقام پر چھپ گیا ہے۔
اس تعلق سے کوسٹ گارڈ پولیس کے ڈی وائی ایس پی پروین نائک نے وضاحت کی ہے کہ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والی دہشت گردوں کی ایک ٹولی ہندوستان میں تخریبی کارروائیاں انجام دینے کے لئے تملناڈو کے راستے ملک میں داخل ہونے اطلاع خفیہ ایجنسی کو ملی تھی۔ ان میں سے ایک دہشت گرد فرار ہوگیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جنوبی ہند کے ساحلی علاقے میں کہیں چھپا ہوا ہے۔ اس لئے اس کی تصویر کے ساتھ ایک لُک آؤٹ نوٹس جاری کیا گیا ہے اور یہ نوٹس اشتہار کی شکل میں کوسٹ گارڈ پولیس کے حدود والے دیگر مقامات کی طرح ملپے میں بھی چسپاں کردیا گیا ہے۔اس کا مقصد صرف عوام کو چوکنّا کرنا اور مشتبہ شخص کہیں نظر آنے یا اس کے تعلق سے کسی قسم کی معلومات ہونے کی صورت میں پولیس کو مطلع کرنے کے لئے عوام سے درخواست کرنا ہے۔
کوسٹ گارڈ پولیس نے مزید بتایا کہ مفرور مجرموں کو تلا ش کرنے کے لئے اس طرح کے اشتہار اکثر شائع ہوتے ہیں اور ملک کے تمام ضروری علاقوں میں انہیں چسپاں کردیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ملپے میں پاکستانی دہشت گرد گھس چکے ہیں یا وہ یہیں پر ہی موجود ہیں۔اس سے مراد صرف عوام کو ہوشیار کرنا اور مشتبہ ملزموں کو گرفتار کرنے میں ان کا تعاون حاصل کرنا ہوتا ہے۔اس لئے اس لُک آؤٹ نوٹس والے اشتہار سے عوام کو غلط مطلب نکالنے اور خواہ مخواہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔